ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شاہین باغ، اوکھلا: شہریت قانون کے خلاف خواتین کا مظاہرہ مسلسل 16 دنوں سے جاری

شاہین باغ، اوکھلا: شہریت قانون کے خلاف خواتین کا مظاہرہ مسلسل 16 دنوں سے جاری

Mon, 30 Dec 2019 23:26:55    S.O. News Service

نئی دہلی،30/دسمبر(ایس او نیوز/ایجنسی) دہلی میں ٹھنڈ نے اپنے پچھلے کئی ریکارڈ کو توڑ دیا ہے، لیکن اس ٹھنڈ اور چل رہی سرد لہر کے باوجود اوکھلا واقع شاہین باغ و دیگر علاقوں کی خواتین کے حوصلے بلند نظر آ رہے ہیں۔ سریتا وِہار-کالندی کنج روڈ پر ایک جگہ شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف 16 دنوں سے دن رات خواتین کا بڑا اجتماع دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جامعہ نگر، شاہین باغ اور دہلی کے مختلف علاقوں کی خواتین یہاں جمع ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دھرنا و مظاہرہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ مودی حکومت شہریت ترمیمی قانون کو واپس نہیں لے لیتی۔

ویسے تو شہریت قانون کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، لیکن شاہین باغ میں ہونے والا خواتین کا مظاہرہ اس لیے اہم ہے کیونکہ خواتین بلند حوصلے کے ساتھ اپنے سبھی کام چھوڑ کر جمی ہوئی ہیں۔ کئی خواتین تو اپنے بچوں کے ساتھ شامیانہ میں بیٹھی ہوئی نظر آ جاتی ہیں۔ لیکن محض شامیانہ ٹھنڈ اور سرد لہر پر قابو کیسے پا سکتا ہے، اس لیے خواتین کے بلند عزائم کی لوگ بھرپور تعریف کر رہے ہیں۔

اس مظاہرہ کا انتظام و انصرام محمد رفیع اور صائمہ خاں کے ذمہ ہے۔ انھوں نے اردو خبر رساں ادارہ ’یو این آئی‘ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’اس مظاہرہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بغیر کسی تنظیم کے ہے اور نہ ہی اس مظاہرہ میں اب تک کسی سیاسی شخصیت کو مدعو کیا گیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اس مظاہرہ کا کوئی خاص منتظم بھی نہیں ہے، بس ہم لوگ یہاں کا تھوڑا بہت انتظام دیکھ لیتے ہیں۔‘‘

بات چیت کے دوران محمد رفیع نے بتایا کہ یہ مظاہرہ کسی فرقہ کے حق کے لیے نہیں کیا جارہا ہے بلکہ ہم آئین کی حفاظت کے لئے سرد ی کی سخت ترین راتوں میں مظاہرہ کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’کوئی بھی ملک آئین سے چلتا ہے اور جب آئین ہی نہیں بچے گاتو ملک کیسے بچے گا۔‘‘

محمد رفیع مظاہرہ میں شامل ہونے والی خواتین کے تعلق سے بتاتے ہیں کہ ’’مظاہرہ میں ہر طبقے کی خواتین شامل ہو رہی ہیں اور مردوں کا بھی بھرپور تعاون حاصل ہے اور وہ بھی مظاہرہ میں شامل ہورہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہاکہ ’’اس میں صرف جامعہ نگر، شاہین باغ کی خواتین ہی نہیں بلکہ پوری دہلی کی خواتین شرکت کر رہی ہیں۔ دراصل جس طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اترپردیش میں مظاہرین پر بربریت کا مظاہرہ کیا گیا ہے، اس نے ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’’اس مظاہرہ میں ایک شخص ایسا بھی ہے جو 16دسمبر سے مسلسل بھوک ہڑتال پر ہے مگر انتظامیہ کے کسی شخص نے اس کی سدھ لینے کی کوشش نہیں کی ہے۔ یہ شخص صرف سیال چیزوں کا استعمال کر رہا ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ خواتین کے اس مظاہرہ میں اب تک سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، حال ہی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف آئی جی کے عہدے سے استعفی دینے والے عبد الرحمن،فلمی ہستی ذیشان ایوبی، بارکونسل کے اراکین، جے این یو کے کچھ پروفیسر،سیاست داں سریشٹھا سنگھ، الکالامبا،ایم ایل اے امانت اللہ خاں، سابق ایم ایل اے آصف محمد خاں، بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد، سماجی کارکن شبنم ہاشمی، پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ سیدین حمید جیسی شخصیتیں شامل ہو چکی ہیں اور ان سبھی نے خواتین کے عزائم کی تعریف کی ہے۔

واضح رہے کہ 15دسمبر کو جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پولس کی پٹائی اور حملہ کے خلاف اور شہریت ترمیمی قانون، این آر سی، این آر پی، کے خلاف جامعہ نگر اور شاہین باغ کی خواتین مسلسل 16دسمبر سے کالندی کنج اور سریتا وہار روڈ پر اس کڑاکے کی ٹھنڈک اور سرد ترین راتوں میں مسلسل دھرنا دے رہی ہیں، جس میں دہلی کی مختلف جگہوں کی ہندو، مسلم، سکھ ، عیسائی خواتین شامل ہیں اور وہ خواتین ملکی حالات، پولس کی بربریت کے خلاف اپنے آنچل کو پرچم بنائے ہوئے ہیں۔


Share: